14۔ زمین کے صحرا (Earth's Deserts)
جون 2013 میں العربیہ پہ خبر شائع ہوئی۔ خبر کے مطابق سعودی عرب کے Empty quarter نامی ریگستان سے ایک قطری مرد اور عورت کی لاشیں ملیں۔ یہ مرد اور عورت قطر کے رہائشی تھے۔ یہ دونوں شوہر اور بیوی پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ گرمی کے حامل اور ایک ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے اس ریگستان میں موجود اپنی جائیداد پر آئے تھے۔ گاڑی الٹنے کے سبب یہ دونوں وہیں صحرا میں پھنس کے رہ گئے۔ سیکیورٹی فورسز کو عورت کی لاش گاڑی کے پاس سے ملی۔ پانی یا مدد کی تلاش میں جُھلساتی دھوپ اور تپتی ریت میں دس کلومیٹر دور تک نکل جانے والا شوہر واپس اپنی بیوی کے پاس نہ پہنچ سکا اور اس قاتل صحرا نے ان دونوں کی جان لے لی۔ زمین کے صحرائی خطے زمین کے بہت ہی خطرناک خطوں میں شمار ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحرا یا ریگستان زمین کے اس حصے کو کہا جاتا ہے جہاں بارش نہ ہو یا پھر نہ ہونے کے برابر ہو۔ سال بھر میں دس انچ سے کم بارش پانے والے علاقے بھی صحرا میں ہی شمار ہوتے ہیں۔ ان علاقوں کو بھی صحرا ہی میں شمار کیا جاتا ہے جن کا درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہاں ہونے والی بارشوں سے زائد پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہو۔ ایسے علاقے زمین کی خطِ استواء کے قریب پائے جاتے ہیں۔ خشک اور گرم موسم کے سبب ان صحرائی علاقوں میں گھاس پودے اور درخت نا ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ خُشک زمین کا تقریبا تیسرا حصہ صحراؤں پر مشتمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمین کے تمام صحراؤں کو چار مختلف اقسام میں بانٹا گیا ہے۔
1۔ قُطبی صحرا Polar deserts
یہ صحرا زمین کے قطبی علاقوں پر موجود ہیں۔
• ان صحراؤں میں سب سے بڑا صحرا انٹارکٹک صحرا ہے۔ اس کا رقبہ پچپن لاکھ مربع میل ہے۔ زمین کی تمام برف کا نوے فیصد حصہ یہیں موجود ہے۔ صحرا ہونے کے باوجود یہاں کا درجہ حرارت ہمیشہ صفر سے نیچے یعنی منفی میں رہتا ہے۔
• قطبی صحراؤں میں دوسرے نمبر پر آرکٹک صحرا ہے۔ اس کا رقبہ چوون لاکھ مربع میل ہے۔ یہ صحرا فِن لینڈ، روس، ناروے، آئس لینڈ، گرین لینڈ، کینیڈا، سویڈن اور الاسکا کے علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ بھی برفیلا صحرا ہے۔ اس میں آنے والے علاقے بھی سال کے زیادہ تر مہینوں میں منفی درجہ حرارت ہی رکھتے ہیں۔
2۔ سَب ٹراپیکل صحرا Subtropical deserts
یہ صحرا زمین کی خطِ استواء(equator) کے آس پاس پائے جاتے ہیں۔ یہ زمین کے خشک اور گرم ترین صحرا ہیں۔ انہی صحراؤں میں زمین کے کچھ انتہائی گرم خطے موجود ہیں۔
• ان میں سب سے بڑا صحارا Sahara ریگستان ہے۔ صحارا ریگستان کا رقبہ پینتیس لاکھ مربع میل ہے۔ یہ صحرا براعظم شمالی افریقہ میں موجود ہے۔ صحارا ریگستان شمالی افریقہ کے ملک مصر، سوڈان، چاڈ، لیبیا، الجیریا، نائیجیر، مالی، مریطانیہ اور مراکش وغیرہ کو لگتا ہے۔
• سَب ٹراپیکل صحراؤں میں دوسرا سب سے بڑا صحرا Arabian desert ہے۔ اس کا رقبہ دس لاکھ مربع میل ہے۔یہ سعودی عرب، یمن، کویت، جارڈن، قطر اور عراق تک پھیلا ہوا ہے۔
• سَب ٹراپیکل صحراؤں میں تیسرے نمبر پر آسٹریلیا کا Great Victoria صحرا ہے۔ جو کہ دو لاکھ پچاس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ سرخ چٹانوں اور ریت پر مشتمل
یہ صحرا مغربی آسٹریلیا مںں موجود ہے۔
• چوتھے نمبر پر سَب ٹراپیکل میں جنوبی افریقہ کا کالاہاری ریگستان Kalahari desert آتا ہے۔ یہ جنوبی افریقہ، بوٹسوانہ اور نیمبیا کے میں موجود ہے۔ اس کا رقبہ دو لاکھ بیس ہزار مربع میل ہے۔ ان کے علاوہ سَب ٹراپیکل صحراؤں میں آٹھ مزید صحرا پائے جاتے ہیں۔ جن میں میکسیکو، امریکہ، ایران، شام اور آسٹریلیا کے صحرا شامل ہیں۔
"تَھر Thar ریگستان بھی سَب ٹراپیکل صحراؤں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ پاکستان میں اور باقی کا حصہ بھارت میں موجود ہے۔ یہ دنیا کا سترھواں سب سے بڑا اور نواں سب سے گرم صحرا ہے"
3۔ کولڈ وِنٹر صحرا Cold Winter deserts
یہ بھی دنیا کے سرد ترین صحرا ہیں۔
•ان میں سب سے بڑا صحرا چین اور منگولیا کا مشہورِ زمانہ گوبی Gobi صحرا ہے۔ اس کا رقبہ پانچ لاکھ مربع میل ہے۔
• کولڈ وِنٹر صحراؤں میں دوسرے نمبر پر دو لاکھ ساٹھ ہزار مربع میل کا رقبہ رکھنا والا پیٹاگونیئن Patagonian صحرا ہے۔ جو براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹائن میں واقع ہے۔ ان کے علاوہ کولڈ وِنٹر صحراؤں میں امریکہ کا Great Basin صحرا، ازبکستان اور ترکمانستان کا Kara-kum صحرا اور چین کا Taklamakan صحرا وغیرہ شامل ہیں۔
4۔ ساحلی صحرا Cool Coastal deserts
ساحل پر واقع صحراؤں کو Cool Coastal کا نام دیا گیا ہے۔ ان صحراؤں کے پاس سمندر سے نمی کی صورت میں دھند اٹھتی ہے لیکن بارش کے لیے مطلوبہ ماحول نہ ہونے
کے سبب یہاں بارشیں نہیں برستیں۔
جنوبی امریکہ کے ملک چِلّی Chilli اور پیرو Peru کا اٹاکاما Atacama صحرا Cool Coastal صحراؤں میں شمار ہوتا ہے۔ چوون ہزار مربع میل پر پھیلا یہ صحرا Pacific Ocean کے کنارے واقع ہے۔ یہاں اس صحرا میں آپ رات کے وقت ملکی وے کہکشاں سمیت بہت سے نظاروں کو عجب حُسن میں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جگہ دنیا کی کچھ منفرد جگہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں فلکیاتی نظارے بہت زیادہ واضح ہوتے ہیں۔
• ساحلی صحراؤں میں افریقہ اور نیمیبِیا کا صحرائے Namib بھی شامل ہے۔ اس صحرا کا رقبہ تیرہ ہزار مربع میل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے گرم صحراؤں میں سب سے بڑا صحرا Sahara ہے۔ یہ 2020 ہے، ایک اندازہ ہے کہ پندرہ ہزار سال بعد 17000 میں صحارا ریگستان ہری بھری سرسبز و شاداب زمین میں بدل جائے گا۔ زمین کے کچھ ایسے خطے جو ابھی سر سبز ہیں، وہ تب ریگستانوں میں بدل جائیں گے۔ آثار و شواہد بتاتے ہیں کہ زمین کے مختلف خطوں پر (ہواؤں اور بارشوں کے رد و بدل کے نتیجے میں) موسمی شدّتیں بدلتی رہتی ہیں۔
صحرا زندگی گزارنے کے لحاظ سے زمین کے انتہائی مشکل ترین خِطے ہیں۔ ان میں زندگی کٹھن ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود زمین کے باسیوں میں سے ایک ارب انسان اور کئی ارب دوسرے جاندار ان صحراؤں میں رہتے ہیں۔ چِلی کے صحرا Atacama میں آج تک بارش ریکارڈ نہیں کی گئی۔ مگر وہاں بھی دس لاکھ سے زائد لوگ آباد ہیں۔ جانوروں اور حشرات الارض کی کچھ ایسی اقسام بھی ہیں جو کہ صحراؤں کے علاوہ زمین کے کسی اور خطے میں نہیں ملیں گی۔
پوری زمین کا سطحی رقبہ اکیاون کروڑ بہتر ہزار 510072000 مربع کلومیٹر ہے۔ جس میں سے چودہ کروڑ انانوے لاکھ چالیس ہزار 148940000 مربع کلومیٹر کا رقبہ خشک ہے۔ اس چودہ کروڑ انانوے لاکھ چالیس ہزار مربع کلومیٹر میں سے تقریبا تیسرا حصہ صحراؤں پر مشتمل ہے اور ان تمام صحراؤں کے بیس فیصد حصے کو ریت نے ڈھکا ہوا ہے۔ اسی لیے اگر زمین کو خلاء سے دیکھا جائے تو زمین کے نمایاں رنگوں میں ان صحراؤں کا پیلا یا زرد رنگ بھی واضح دکھائی دیتا ہے۔
گرم اور درختوں سے محروم یہ علاقے سال بھر تیز ہواؤں کی لپیٹ مں رہتے ہیں۔ یہ تیز ہوائیں خشک مٹی کو اڑا لے جاتی ہیں اور نیچے سے زمین کی ریت والی پَرت نمایاں ہو جاتی ہے۔ صحراؤں کا اپنا الگ حُسن ہے۔ وہ اس حُسن کو زمین کے کسی دوسرے خِطے کے ساتھ بانٹنا قطعًا پسند نہیں کرتے۔۔!!
تحریر : محمد یاسر لاہوری
Muhammad Yasir - Facebook ID
Falkiyati Dunia - Facebook Group
Youtube - Zaibnama
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





0 Comments