15۔ زمین کے جوہری حادثات (Earth's nuclear accidents) 


بیس لاکھ لوگوں کا مَسکن جاپان کا ایک خوبصورت شہر، جسے ہیروشیما Hiroshima کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ 1945 میں ڈھائی لاکھ لوگوں کا گھر تھا۔ تب دوسری جنگ عظیم جاری تھی۔ اس دوران زندگی تنگ ہو کے رہ گئی تھی۔ کھانے پینے کی قِلت کے ساتھ ساتھ حملوں کا بھی کا ڈر تھا۔ سڑکیں ویران تھیں اور معاشی بدحالی عروج پر تھی۔ امریکہ چاہتا تھا کہ اس کے مدِ مقابل ممالک ہتھیار ڈال دیں۔ جاپان ہتھیار ڈالنے کو تیار تھا۔ لیکن امریکہ کو ایک بہت اچھا موقع میسر آیا تھا، دنیا کو اپنی طاقت دکھانے کا موقع۔ "امریکہ ایک ایٹمی طاقت اور زور آور ریاست ہے" امریکہ دنیا کو یہ بات بتانے کے لیے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔


6 اگست 1945 کی صبح نے ایک سانس لی۔ سانس کیا تھی، گویا ایک آہ تھی یا شاید ماتم میں ڈوبی کچھ خاموش چیخیں تھیں۔ جاپانی ریڈارز نے جاپانیوں کو امریکی جہازوں کے جنوب کی طرف منڈلانے کی خبر دی۔ لمبی اور سرد جنگ کی وجہ سے سب ہی کچھ دیوالیہ ہو چکا تھا۔ تیل کی قِلت کے باعث جاپانی جہاز اڑ کر امریکی جہازوں کو بھگا/جانچ نہ سکے۔ لیکن شہر میں سائرن ضرور بجنے لگے تھے۔


امریکی فضائیہ کے جنگی ہوائی جہاز شہر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ 'اینولا گے' Enola Gay جہاز کے اندر تقریبا ساڑھے چار ہزار کلوگرام وزنی اور دس فٹ لمبا Little boy نامی ایٹم بم ہیروشیما کے باسیوں کی موت کا سامان بننے کو تیار تھا۔ اس جہاز کے پائلٹ امریکی فضائیہ کے بریگیڈیئر جنرل Paul Tibbets نے اس لِٹل بوائے نامی ایٹم بم کو ہیروشیما شہر پر گرا دیا۔ ایک منٹس سے بھی کم وقت میں یہ قاتل بم شہر کے وسط میں آ گرا۔


جس جگہ یہ بم گرایا گیا وہاں سے ایک کلومیٹر اونچا آگ اور دھویں کا مرغولہ بلند ہوا۔ بم کے گرنے والی جگہ کے ارد گرد چالیس سے پچاس ہزار فٹ کے دائرے میں موجود تمام شیشے پگھل گئے۔ چند ہی لمحوں میں شاک ویو سے پورا شہر ملیا میٹ ہو گیا۔ شہر کی 63 فیصد عمارتیں اور گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ پھیلتی ہوئی فائر بال کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ دس ہزار فٹ کے دائرے میں موجود انسان تین سے چار ہزار ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرات پر جل کر لمحوں میں بھسم ہو گئے۔ شہر میں موجود تمام آبادی میں سے چند ہی لمحوں میں اسی ہزار 80000 لوگ موت کی نیند سو گئے۔


زخمیوں میں سے آئندہ دو روز کے اندر مزید ساٹھ ہزار کے قریب لوگ جان سے گئے۔ جو بچ گئے، وہ ایٹمی بم سے پیدا ہونے والی تابکاری کے امراض کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ مرنے لگے۔ اعداد و شمار کے مطابق دس فٹ لمبے اور 64 کلوگرام Uranium-235 سے لیس اس ایٹمی بم نے ڈیڑھ لاکھ انسانوں کو اذیت ناک موت کی نیند سُلا دیا (تاہم 64 کلوگرام میں سے یورینیم کا ایک قلیل سا حصہ ہی اس تباہی کے لیے وافر ثابت ہوا)


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


9 اگست 1945 کا دن تھا۔ جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹمی حملہ ہوئے ابھی تین دن بھی نہیں بیتے تھے۔ پہلے ایٹمی حملے میں ڈیڑھ لاکھ انسانوں کو ہلاک کرنے کے باوجود امریکہ کا جنگی جنون اور جیتنے کی خواہش ختم نہ ہوئی تھی۔ میجر چارلس سوینی Charles Sweeney نامی امریکی پائلٹ نے جاپان کے ایک دوسرے شہر ناگاساکی Nagasaki پر بھی ہیروشیما شہر کی طرح ایٹم بم گرا دیا۔


یہ ایٹم بم کوکوار شہر پر گرایا جانا تھا مگر کوکورا شہر کا موسم خراب ہونے کی وجہ سے 9 اگست صبح گیارہ بجکر 2 منٹ پر اس بم کو ناگاساکی شہر پہ گرا دیا گیا۔


ناگاساکی شہر پر گرایا جانے والا بم بھی ہیروشیما والے بم کی طرح تباہی پھیلانے میں پیش پیش رہا۔ دھماکے کی شدت سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ کر ہزاروں فٹ دوری پر موجود لوگوں پہ گر کر انہیں زخمی کر گئے۔ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ زندہ بچ جانے والوں نے بعد میں ان قیامت خیز مناظر کو قلمبند کیا کہ لوگوں کے جسم جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ بہت سی لاشوں کی ہڈیوں سے جسم پگھل کر الگ ہو چکا تھا۔ کچھ ایسے زندہ لوگ بھی تھے کہ جن کے سامنے ان کے اپنے ہی جسم کے اعضاء علیحدہ ہوئے پڑے تھے۔ بم گرنے والے مقام کے قریب لوہے اور شیشے کی اشیاء پگھل گئی تھیں۔


"فیٹ مین" نامی اس ایٹمی بم نے ناگاساکی شہر کے 74 ہزار لوگوں کی جان لے لی۔ لاشوں کی کلائیوں پر بندھی اور جیبوں میں پڑی گھڑیاں گیارہ بجکر دو منٹس کے بعد دھماکے کی وجہ سے رکی ہوئی ملیں۔ شہر کے تیس فیصد حصے میں سب ہی کچھ تباہ ہو گیا۔ اپنی موت کو اس قدر پاس پا کر زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ "یہ سب کچھ بہت دردناک تھا۔ مرتے ہوئے لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے مگر مدد دینے کے لیے کوئی نہ تھا"


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


تین دن میں ان دو ایٹمی (جوہری) بموں نے سوا دو لاکھ افراد کی جان لے لی۔ حجم میں اس قدر چھوٹے ایٹم بم اتنی بڑی تباہی کیسے پھیلاتے ہیں؟ جس عمل کے نتیجے میں یہ تباہی ہوتی ہے، اسے nuclear fission کہتے ہیں۔ زمین پر پہلا جوہری حملہ (atomic attack) ہیروشیما پر 6 اگست 1945 کو امریکہ نے کیا اور تین دن کے بعد 9 اگست 1945 کو زمین پر آخری جوہری حملہ بھی امریکہ نے ہی ناگاساکی شہر پر کیا۔ یقینا یہ زمین پر برپا ہوئے بہت بڑے اور نہایت دردناک حادثات تھے، جنہیں زمینی معلومات میں شامل کیا جانا چاہیے!


(تصاویر کے ساتھ لکھے گئے کیپشنز پڑھ لیجیے)


تحریر : محمد یاسر لاہوری


Muhammad Yasir - Facebook ID

Falkiyati Dunia - Facebook Group

Youtube - Zaibnama