Pic credit : NASA
مارس پرسیورنس روور
Mars Perseverance Rover
قسط نمبر 2
یہ انسان کا بنایا ہو کیپسول جس میں مارس روور موجود ہے زمین اور مریخ کے درمیان خلا کی وسعتوں میں موجود ہے ہر ایک سیکنڈ میں 21 کلومیٹر فاصلہ طے کرکے مریخ کے قریب تر چلا جارہا ہے یہ 30 جولائی 2020 کو لانچ کیا گیا جو کہ اب تک 470 ملین کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرچکا ہے
اس کا نام پرسیورنس Perseverance رکھا گیا جس کو ورجینا ریاست کے ایک مڈل سکول بچے الیگزینڈر ماتھر Alexander Mather نے تجویز کیا
پرسیورنس کا اردو میں مطلب مستقل مزاجی/ثابت قدمی بنتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم مستقل مزاجی سے کائنات کی کھوج کریں گے اور روکاوٹوں سے ہار نہیں مانے گے روور پر 3 چِپ Chip کے اندر 11 ملین لوگوں کے نام سٹور کیے گیے ہیں (10.932.295 Explorers ).
آپ میں سے کسی نے اس chip پر اپنا نام شامل کیا ہے تو کمنٹ کریں
مزید ان کے ساتھ زمین اور مریخ کی دو بھائیوں کے طور پر انوکھی ڈرائينگ بھی شامل ہے جس میں سورج ان کو روشن کر رہاہے جو کہ ایک پیغام کے طور پر وہاں موجود ہے
یہ مشن کی آج رات پاکستانی وقت کے مطابق رات دو بجے لینڈنگ کر گا، اور یہ لینڈینگ ناسا کے یوٹیوب چینل پر راست دکھائی جائے گی۔ یاد رہے کہ لینڈنگ کی ویڈیو نہیں ہوتی بلکہ اس دوران خلائی گاڑی سے ملنے والے ڈیٹا کو سکرین پر دکھایا جارہا ہوتا ہے، جس کی مدد سے معلوم ہوتا ہے کہ خلائی گاڑی لینڈ ہوئی ہے یا نہیں
راؤ محمود طاہر
#Mars_landing
Pic credit : NASA
Mars Perseverance Rover
مارس پرسویرنس روور
کے مریخ پر اترنے کے مناظر کچھ اس طرح کے ہوں گے
یہ تصاویر ایک آرٹیسٹ کی بنائی ہوئی ہے جس میں پیراشوٹ ،سکاٸ کرین اور روور اور مارس ہیلی کاپٹر کو دکھایا گیا ہے
یہ روور 18 فروری 2021 کو لینڈ کرے گا
#Mars_landing
مارس کیوروسٹی روور کی لینڈینگ
MARS Curiosity Rover Landing
Perseverance vs Curiosity Rover
#قدرت_کے_کمالات
یہ بات ہے 6 اگست 2012 کی جب مارس کیوروسٹی روور مریخ کی سرزمین پر اتر رہا تھا اور مارس آربیٹر Mars Reconnaissance Orbiter نے کیوروسٹی اور اس کے ساتھ لگے پیراشوٹ کی عکس بندی کی.
اس تصویر کے بعد کیوروسٹی مزید نیچے اترتے ہوئے اور اس کا پیراشوٹ اس سے الگ ہوتے ہوئے مگر کیوروسٹی پراشوٹ الگ ہونے کے بعد ایک دم سے نیچے نہیں آیا بلکہ اس کے ساتھ ایک اور آلہ جڑا تھا جسے سکائی کرین Skycrane کہتے ہیں جس نے اس کو آسان لینڈینگ میں مدد کی
سکائی کرین چھوٹے انجن یا تھرسٹرز سے لیس ہوتا ہے اور زمین سے کچھ میٹر دوری پر وہ جلنا شروع ہوتا ہے اور بغیر کسی حادثے کے لینڈینگ کو کامیاب بناتا ہے پھر یہ سکائی کرین کیوروسٹی کی محفوظ لینڈینگ کراونے کے بعد اس سے الگ ہو جاتا ہے اور کچھ میٹر دور جاکر گرتا ہے تاکہ کیوروسٹی کے اوپر نہ گرے اور اس کوکس حادثے کا شکار نہ کر دے
تصویر میں کیوروسٹی کے ساتھ لگے پیراشوٹ جس کے درمیان میں ایک سوراخ بھی ہے اور سکائی کرین کو دکھایا گیا ہے جس کی اوپری سطح یا شیلڈ پر روشنی منعکس ہوتی نظر آرہی ہے کیوروسٹی مریخ کے Gale Crater پر لینڈ کیا تھا
لینڈینگ کا بالکل اسی طرح کا طریقہ اس بار آنے والے دن 18 فروری 2021 بروز جمعرات کو مارس پر لینڈ کرنے والے Mars Perseverance کے لیے استعمال کیا جاۓ گا یہ روور مریخ کے جزیرو کریٹر Jezero Crater پر لینڈ کرے کا جو کو 45 کلومیٹر پر محیط ہے
اور امید ہے کہ یہ اسی طرح کامیاب لینڈینگ ہوگی جس طرح کیوروسٹی کی تھی
راؤ محمود طاہر
#آر_ایم_ٹیRMT
#Mars_landing




0 Comments