زمینی قُطبین کی روشنیاں (Earth's lights

۔ زمینی قُطبین کی روشنیاں (Earth's lights)


امریکہ اور ویتنام کی جنگ کے دوران 1972 میں امریکی فوج کی طرف سے ویتنام کے شمالی ساحل کے پاس سمندر کے اندر کئی درجن magnetic detonator سرنگیں بچھائی گئیں۔ ان سرنگوں کا مقصد آس پاس سفر کرتے بحری جہازوں/کشتیوں کا پتا لگانا تھا۔ لیکن (بظاہر) کسی بھی وجہ کے بغیر یہ سرنگیں دھماکے سے پھٹ گئیں۔ تب اس واقع کو زیادہ اہمیت نہ دی گئی۔ مگر حالیہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ یہ کارستانی ہمارے ستارے (سورج) کی تھی۔ (مگر کیسے؟)


سورج پر ہر وقت جوہری عمل کے نتیجے میں مادہ توانائی کی صورت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ انہی جوہری دھماکوں کی وجہ سے سورج کی سطح پر اٹھنے والے مقناطیسی پھندے کئی دسیوں ہزار کلومیٹر تک کی اونچائی کے حامل ہوتے ہیں۔ سورج کے ان مقناطیسی پھندوں کے ساتھ پلازما اور گرم گیسیں بھی موجود ہوتی ہیں۔ جب یہ مقناطیسی پھندے ٹوٹتے ہیں تو ان کے ٹوٹنے سے خلاء میں اربوں ٹن پلازما اور گرم گیسیں برقی ذرّات (چارج شدہ پارٹیکلز) کی شکل میں بکھر جاتی ہیں۔ عمومًا ایک یا دو دن بعد ان برقی ذرّات کا کچھ حصہ زمین تک بھی پہنچ جاتا ہے (تاہم یہ ان برقی ذرات کی رفتار پر منحصر ہوتا ہے)


زمینی قُطبین کی روشنیاں (Earth's lights


زمین کے گرد اپنا مقناطیسی میدان (magnetic field) موجود ہے جو کہ ان شمسی طوفانوں (solar winds) سے زمین کی حفاظت کرتا ہے مگر ہر بار ایسا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار سورج پر اٹھنے والے یہ طوفان بہت بڑی مقدار میں گرم گیسوں اور پلازما کو انتہائی تیز رفتاری سے خلاء میں پھینکتے ہیں۔ جس وجہ سے ان میں موجود برقی ذرّات زمین تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سورج کی طرف سے خلاء میں پھینکے گئے یہ برقی ذرّات زمین کے مقناطیسی میدان میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ بجلی پر چلنے والی تمام اشیاء اور ہمارے ریڈیو مواصلاتی نظام و سیٹلائٹس وغیرہ کو بھی ناکارہ کر سکتے ہیں۔


ویتنام کے سمندر میں امریکی فوج کی طرف سے بچھائی گئی ان سرنگوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ انہی برقی ذرّات (charged particles) نے ہی کی تھی، جو کہ سورج کے مقناطیسی پھندے کے بکھرنے سے خلاء میں خارج ہوئے تھے۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


سورج سے اٹھنے والے یہ شمسی طوفان ہمیشہ اپنے ساتھ تباہی نہیں لاتے ہیں۔ اکثر اوقات ان شمسی طوفانوں کی وجہ سے ہماری زمین پر کچھ بہت ہی دلکش، دِلچسپ، مسحور کُن اور حیران کُن مناظر بھی جنم لیتے ہیں۔ جنہیں ارورا کی روشنیاں (Aurora's lights) یا قُطبی روشنیاں کہا جاتا ہے۔


سورج کی طرف سے آئے ہوئے یہ برقی ذّرات جب زمین کی طرف آتے ہیں تو زمین کا مقناطیسی میدان ان برقی ذرّات کو زمین کی فضاء میں داخل نہیں ہونے دیتا۔ لیکن زمین کے قطبین (poles) پر زمین کا مقناطیسی میدان کمزور ہے جس وجہ سے مخصوص مقدار میں یہ برقی ذرات زمین کی بالائی فضاء میں داخل ہو جاتے ہیں۔ زمینی فضاء مختلف گیسوں پر مشتمل ہے۔ سورج سے آئے ہوئے یہ برقی ذرّات اپنی توانائی کے سبب فضاء میں موجود مختلف گیسوں کے ایٹموں کو آئیونائز (ionize) کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ سو نتیجتاً زمینی قطبین کے علاقوں میں یہ خوبصورت روشنیاں جنم لیتی ہیں۔ انہی روشنیوں کو "ارورا کی روشنیاں" کہا جاتا ہے۔


یہ خوبصورت روشنیاں مختلف رنگوں میں نظر آ سکتی ہیں لیکن چوں کہ زمین کی فضاء میں نائٹروجن اور آکسیجن گیسیں زیادہ پائی جاتی ہیں اسی لیے زیادہ تر یہ روشنیاں سرخ اور سبز رنگ میں نظر آتی ہیں، ان میں سبز روشنی آکسیجن اور سرخ روشنی نائٹروجن گیس کے سبب بنتی ہے۔ لہروں کی طرح فضاء میں ادھر سے اُدھر سفر کرتیں یہ روشنیاں زمین کے جنوبی قطب پر انٹارکٹکا میں جبکہ شمالی قطب پر آئس لینڈ، ناروے، ڈنمارک، سویڈن، گرین لینڈ اور سائبیریا وغیرہ میں نظر آتی ہیں۔ لیکن اگر سورج کی طرف سے آئے ہوئے برقی ذرّات (charged particles) کی تعداد زیادہ ہو تو یہ قُطبی روشنیاں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ تک بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ جیسا کہ 2012 میں ہوا تھا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ارورا کی یہ خوبصورت روشنیاں صرف زمین پر ہی دکھائی نہیں دیتیں بلکہ ان روشنیوں کا مشاہدہ سیارہ مریخ، سیارہ مشتری اور سیارہ زحل پر بھی کیا گیا ہے۔ نظام شمسی میں جو بھی سیارہ یا چاند Magnetic field اور atmosphere رکھتا ہے، وہاں ان روشنیوں کا وجود میں آنا ممکن ہے۔

Muhammad Yasir - Facebook ID


Falkiyati Dunia - Facebook Group


Youtube - Zaibnama


  Facebook IDتحریر : محمد یاسر لاہوری۔