Has man really gone to the moon?


کیا انسان واقعی چاند پر جاچکا ہے؟؟؟

Has man really gone to the moon?


(حصہ دوم)

تحریر: محمد شاہ زیب صدیقی

حصہ اول میں ہم نے دس اعتراضات کی حقیقت جانی تھی اور ان کو کُریدنے کی کوشش کی تھی کہ ان میں سچائی کس حد تک ہے۔ اس حصے میں ہم اگلے 9 اعتراضات کی سچائی جانیں گے:

سوال نمبر 11: چاند گاڑی دوبارہ واپس کیسے اڑی ؟؟ جبکہ دیکھلائی گئی چاند گاڑی کچھ عجیب طرح کی تھی چار ٹانگوں والی ۔۔ اتنی چھوٹی سی گاڑی اڑ کیسے گئی بغیر انجیکٹر بغیر انجن اور بغیر فیول کے ؟؟

جواب: ویسے تو اس اعتراض پر ہم سوال نمبر 3 میں بات کرچکے ہیں لیکن یہاں تفصیلی بات کرلیتے ہیں۔ چاند پر بھیجے والے مشنز 2 حصوں پر مشتمل تھے۔ خلائی گاڑی کا ایک حصہ چاند پر لینڈ کیا جسے لُونر ماڈیول کہتے ہیں جبکہ خلائی گاڑی کا دوسرا حصہ چاند کے گرد چکر لگاتا رہا جسے کمانڈ ماڈیول کہتے ہیں۔ چاند کی کم کشش ثقل اور چھوٹا لُونر ماڈیول ہونے کی وجہ سے تھرسٹرز (چھوٹے راکٹس) کی مدد سے لونر ماڈیول کو اُڑایا گیا۔ جب لونر ماڈیول اُڑ کر چاند کے مدار میں پہنچا تو وہاں کمانڈ ماڈیول چاند کے گرد گردش کررہا تھا۔ یوں lunar module کمانڈ ماڈیول سے جُڑا اور انہوں نے زمین کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا۔ یاد رہے کہ ہر اپالو مشن میں تین خلاء باز چاند کی جانب گئے تھے، لُونر ماڈیول میں دو خلاء باز موجود تھے۔ جبکہ ایک خلاء باز command module میں چاند کاچکر لگارہا تھا جو چاند پر نہیں اترسکا مگر چاند کے مدار میں کمانڈ ماڈیول کو آپریٹ کررہا تھا۔چاند پر اب تک چھ انسانی مشنز بھیجے گئے 

ہیں اور سب میں یہی طریقہ کار اپنا گیا۔

سوال نمبر 12: اتنی چھوٹی سی چاند گاڑی میں سے بڑی سی چار پیوں والی ایک اور گاڑی نکلی اور بغیر آکسیجن کے اسٹارٹ کیسے ہوئی؟؟اور ناسا کے حساب سے چاند پر دنیا کی نسبت چھ گنا کم کشش ہونے کے باوجود جیسے دنیا میں گاڑیاں چلتی ہیں ویسے ہی کیسے چلتی ہوئی دکھلائی ؟ یعنی بغیر اچھلتے کودتے تیرتے نارمل انداز میں کیسے دوڑی ؟؟

جواب: لُونر ماڈیول کے اندر ایک حصے میں کیسے چاند گاڑی کو فولڈ کرکے رکھا گیا تھا،اس پر ہم نے سوال نمبر 3 میں تفصیلی بات کی ہے۔یہ ننھی چاند گاڑیاں الیکٹرک بیٹریوں پر چلتی تھیں، ایک بار چارجنگ پر 90 کلومیٹر تک چل سکتی تھیں، جس وجہ سے ان کو فیول کی ضرورت نہیں تھی۔ان کی رفتار کم تھی نیز ان کی اونچائی کم اور پھیلاؤ زیادہ رکھا گیا تاکہ سینٹر آف گریوٹی سطح کے قریب ہو اور یہ چاند کی سطح پر الٹ نہ جائیں ، جس وجہ سے انہیں جھٹکے نہ لگیں، یہی وجہ ہے کہ یہ "اُچھلتی کُودتی" نہیں دکھائی دیں۔

سوال نمبر 13: نیل آرم سٹرونگ صاحب چاند کے مدار سے واپس کیسے نکلے ۱۲۹۰۰۰۰ کلومیڑ گھومتے مدار سے نکلنا کیا مذاق ہے ؟

جواب: یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ تمام اعتراضات میں صرف نیل آرمسٹرانگ کا نام ہی استعمال کیا گیا ہے ، جس کے ذریعے معلوم ہوتا ہےکہ اعتراض کرنے والا بقیہ 11 انسانوں کے متعلق بالکل بھی نہیں جانتا، جو چاند پر اُترے تھے، ہر اعتراض میں "نیل آرمسٹرانگ" کی تکرار بتاتی ہے کہ یہ طبقہ اپالو مشنز کی تفصیلات سے بالکل لاعلم ہے، صرف سنی سنائی باتوں پر ہوائیاں چھوڑ رہے ہیں۔ بہرحال اس سوال کا جواب یہ ہے کہ "نیل آرم سٹرانگ" راکٹ میں بیٹھ کر چاند کے مدار سے نکلے اور یہ بالکل بھی "مذاق" نہیں ہے، اس کی سنجیدگی کو سمجھنے کےلئے سائنس کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم اعتراض نمبر 11 میں تفصیلی سمجھ لیا ہے کہ اپالو مشنز کیسے چاند سے اڑ کر واپس آئے، اس دوران چاند کا چکر لگاتے ہوئے اس کے ہل سفئیر سے کیسے نکلے۔ فلکیات کا ادنیٰ سا طالبعلم سمجھتا ہے کہ ہل سفئیر میں موجود اشیاء اپنے سے بڑے اجرام فلکی کے ساتھ ہی چلتی رہتی ہیں لہٰذا یہ اعتراض بے بنیاد ہے۔ (ہل سفئیر کی تفصیل حصہ اول میں شئیر کرچکے ہیں) 

سوال نمبر 14: چاند پر رات کے وقت فلم بنائی گئی اس میں کئی دفعہ آسامان دیکھلایا گیا کسی بھی دفعہ آسامان پر ستارے نہیں دیکھلائے گئے ۔۔۔ کیا فضا میں ستارے ختم ہوگئے یا ایک سٹوڈیو میں فلم بنائی گئی ؟

جواب: اس سوال کا جواب جاننے کےلئے ہم ایک تجربہ کرتےہیں، آپ دن کے وقت اپنے کمرے میں جائیں، اور ہر طرف سے کھڑکیاں بند کرکے اندھیرا کردیں، صرف ایک کھڑکی کھُلی رہنے دیں جہاں سے روشنی آرہی ہو۔ اب آپ موبائل کیمرہ نکالیں اور اس کوکھڑکی کے ساتھ دیوار پر فوکس کریں تو آپ کو کھڑکی سے آنے والی روشنی بے حد روشن لگے گی، یعنی کھڑکی دکھائی نہیں دے گی۔ یہ کرلینے کے بعد آپ کھڑکی سے آنے والی روشنی پر فوکس کریں، آپ دیکھیں گے کہ اب کھڑکی تو دکھائی دے رہی ہے مگر کمرے کی دیواریں روشن نہیں ہیں بلکہ کالی دکھائی دے رہی ہیں۔کیمرہ تکنیک میں اس کو ایکسپوژر کہتے ہیں، جب آپ روشن شے کو فوکس کرتے ہیں ، ISO، اپرچر اور شٹر اسپیڈ اُس روشنی کے مطابق سیٹ ہوجاتا ہے تو دیگر مدھم اشیاء دکھائی دینا بند ہوجاتی ہیں۔ چاند کی سطح انتہائی روشن ہے جس وجہ سے اسے فوکس کرنے کی وجہ سے ستارے کیمرے میں کیپچر نہیں ہوپائے۔

سوال نمبر 15: چاند گاڑی جو دیکھلائی گئی اس میں سلور اور گولڈن رنگ کے پیپر / کاغذ لیپٹے ہوئے تھے ۔۔۔چاند گاڑی پلاسٹک کے ٹائیروں والے پیر کے ساتھ جو چمکیلے سے ہوتے ہیں اکثر بچوں کی سائیکلوں کی پیکنگ میں بھی استعمال ہوتے ہیں اور گفٹ پیپر میں بھی استعمال ہوتے ہیں ۔۔۔یہ کاغذ یعنی چمکیلے شاپر لینڈنگ میں الگ نہیں ہوئے ؟؟

جواب: چاند پر فضائی کُرہ نہ ہونے کی وجہ سے سورج کی ریڈیشنز اچھی خاصی تعداد میں ہوتی ہیں جو لونر ماڈیول کو شدید گرم کرسکتی تھیں، جس وجہ سے لُونر ماڈیول کو ریڈیشنز سے بچانے کےلئے اُس کے گردنِکل فوائل، ٹائٹینیم سمیت aluminized polyimide کی کئی تہیں لپیٹی گئیں۔ اِن پرتوں کے باہری حصے پر گولڈن رنگ کی پرتیں بھی شامل کی گئیں کیونکہ گولڈن رنگ ریڈیشنز کو زیادہ منعکس کرتا ہے ۔ آجکل جو گھروں کی انولیشن کی جاتی ہے، یہ اسی کی جدید قسم ہے۔ یہ پرتیں لینڈنگ کے دوران خلائی گاڑی سے الگ اس خاطر نہیں ہوئی کہ چاند پر ہوا موجود نہیں ہے جس وجہ سے وہاں انہیں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

سوال نمبر 16: جب نیل آرمسٹرونگ صاحب چاند پر چل رہے تھے تو ساتھ ساتھ بے تحاشہ گرد بھی اڑا رہے تھے کیونکہ ریگستانی علاقے میں فلم بن رہی تھی ۔۔ سوال یہ ہے کہ یہ گرد ان چمکیلے پنی نما شاپر پر زرا سی بھی نہیں پڑی۔۔ حلانکہ لینڈنگ کے وقت بے تحاشہ گرد اڑنی چاہیئے تھی ۔

جواب: چاند کی مٹی زمین کی ریت جیسی نہیں ہے، اسکا ریت سے موازنہ کروانا ٹھیک نہیں ہے، یہ کروڑوں سال تک سورج کی براہ راست ریڈیشنز پڑنے کے باعث چارجڈ پارٹیکلز پر مشتمل ہے، یعنی یہ پاؤڈر کی طرح جُڑی ہوتی ہے، بہت سی جگہوں پر سخت بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ خلاء بازوں کے کپڑوں پر لگ جانے والی چاند کی مٹی نے اپالو مشن کے دوران کافی مسائل پیدا کیے ، ان مسائل کو ناسا نے بعد ازاں ایک ڈاکومنٹ کی شکل میں پبلش بھی کیا جسے آپ اس لنک پر پڑھ سکتے ہیں:

https://history.nasa.gov/alsj/TM-2005-213610.pdf

چارجڈ پارٹیکل ہونے کے باعث چاند کی پاؤڈر نما مٹی جُڑی رہتی ہے اور اگر کسی قوت کے باعث اڑے تو فوراً بیٹھ جاتی ہے کیونکہ وہاں زمین کی طرح ہوا موجود نہیں جو انہیں فضاء میں معلق رکھے، چونکہ سافٹ لینڈنگ کے دوران چاند کی سطح سے چند فٹ اونچائی پر لونر ماڈیول کے تھرسٹرز آف کردئیے گئے تاکہ فیول بچایا جاسکے، جس وجہ سے اُڑنے والی مٹی لینڈنگ سے پہلے بیٹھ چکی تھی۔یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اعتراض کرنے والے زمین کے حالات کو سامنے رکھ کر اعتراضات کرتے ہیں، جس وجہ سے وہ مون لینڈنگ کی حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے۔

سوال نمبر 17: نیل آرم سٹرونگ صاحب نے جو ہیلمٹ پہنا ہوا تھا ان کے ہیلمیٹ کے گلاس کور کے کونے میں ایک سرچ لائٹ کی روشنی نظر آرہی تھی ۔۔۔ یہ چاند پر کیا اسٹریٹ لائٹیں لگائیں گئیں تھی یا اسٹوڈیو کی لائٹ تھی ؟؟

جواب: اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جس تصویر کو یہاں اعتراض کرنے والوں کی جانب سے refer کیا جارہا ہے وہ "نیل آرمسٹرانگ" کی نہیں بلکہ Buzz Aldrin کی ہے، جو اُس وقت ان کے ساتھ تھے۔ اس تصویر کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس میں بزالڈرن کے ہیلمٹ میں امریکی جھنڈے کے عکس کے علاوہ اُس چھڑی کا عکس دکھائی دے رہا ہے جو Solar winds کی composition چیک کرنے کےلئے گاڑی گئی تھی۔ (تصاویر ساتھ منسلک ہیں)

سوال نمبر 18: جب چاند پر سے دنیا دکھلائی گئی تو وہ رنگین دکھلائی ۔۔ کیا کبھی رات کو چاند رنگین سات رنگ کا دکھلائی دیتا ہے ؟ کہتے ہیں چاند پر سے دنیا بھی ریفلیکٹ ہوتی نظر آتی ہے جیسے چاند نظر آتا ہے ۔ کیا کبھی ریفلیکشن بھی رنگ برنگی ہوتی ہے ؟

جواب: چاند اس خاطر رنگین دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہاں عناصر کی composition زمین کی نسبت مختلف ہے، وہاں ہوائی کُرہ موجود نہیں ہے، پانی موجود نہیں ہے، چاند کی سطح آتش فشاں چٹانوں پر مشتمل ہے۔جبکہ زمین پر مختلف عناصر کی بھرمار ہے، جس وجہ سے چاند سے بھی زمین رنگین ہی دکھائی دیتی ہے۔جیسے زمین سے سیارہ مریخ کالے یا سفید رنگ کا نہیں بلکہ لال رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔

سوال نمبر19: کہتے ہیں زمین چاند سے کئی گنا بڑی ہے ۔۔ اگر واقعی سچ کہتے ہیں تو وہ زمین جو ناسا نے دکھلائی تھی وہ تو چاند کے برابر ہی نظر آ رہی تھی ۔۔ کیسے چاند پر سے دنیا کا سائز بھی اتنا ہی بڑا نظر آیا جتنا ہمیں چاند نظر آتا ہے ؟؟ کیوں دنیا کئی گنا بڑی نظر نہ آئی چاند پر سے ؟؟

جواب: اپالو مشنز جس دوران چاند پر گئے تو اُس دوران چاند کی پہلی تاریخ نہیں تھی، کیونکہ پہلی تاریخ پر چاند کی سطح سے زمین مکمل دکھائی دیتی ہے، بقیہ تاریخوں میں یہ چاند کی طرح شکلیں بدلتی رہتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اِن تصاویر میں زمین مکمل نہیں ہے۔ نیز آپ ایک تجربہ کیجیے، کبھی چودھویں کا چاند جب اپنے عروج پر ہو، اس دوران اس کو عام آنکھ سے دیکھیے، اس کے بعد اس کی تصویر کیمرے سے لینے کی کوشش کریں، دونوں کے مابین کافی فرق دکھائی دے گا۔

یہ اُن کچھ اعتراضات کے جوابات تھے، جو بارہا انبکس میں بھیجے جارہے تھے، اس کے علاوہ ایک اور اعتراض وین ایلن بیلٹ کے حوالے سے کیا جاتا ہے کہ زمین کے گرد Van Allen Belt نامی ایک پٹی موجود ہے جہاں سورج کی ریڈیشنز بےحد شدید ہیں، وہاں سے خلاء باز کیسے گزرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آج بھی عالمی خلائی اسٹیشن کبھی کبھار وین ایلن بیلٹ سے گزرتا ہے، عالمی خلائی اسٹیشن میں چھ انسان ہر وقت سوار ہوتے ہیں، لہٰذا خلائی گاڑی کو ایسی دھاتوں سے بنایا جاتا ہے کہ Van Allen Belt سمیت کہیں بھی سورج کی خطرناک ریڈیشنز سے خلاء باز محفوظ رہتے ہیں۔یاد رہے کہ ان تمام باتوں سے قطع نظر اپالو مشن کی کامیابی کےلئے یہی ثبوت کافی ہے کہ اس مشن میں لوگوں کی جانیں گئیں، 10 سال تک ساری محنت دنیا کے سامنے ہوتی رہی، لاکھوں امریکی اس مشن کا حصہ رہے، اس پر اعتراضات وہی لوگ کرتے ہیں جو اس مشن کا حصہ نہیں تھے یا جو فلکیات سے لاعلم ہیں، جو اس مشن کا حصہ رہے انہوں نے مرتے دم تک اس مشن کا حصہ ہونے پر فخر کیا۔اس کے علاوہ سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ جھوٹ ہے تو پھر چاند کی سطح پر retro-reflector کیسے پہنچے؟ جنہیں آج بھی سائنسدان استعمال کررہے ہیں۔ لہٰذا ان تمام حقائق کی بنا پر بلا جھجھک کہا جاسکتا ہے کہ انسان چاند پر پہنچا ہے یہ ایک حقیقت ہے اور بڑی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے سوچ کی وسعتیں بھی کھولنی پڑتی ہیں ورنہ کنویں کا مینڈک بننا کوئی بڑا کام نہیں۔ کائنات بے انتہاء وسیع ہے اس کو سوچتے ہوئے اپنے vision کو بھی وسیع رکھیے ورنہ یہ دماغ زمین سے پرواز تک نہیں کرنے دے گا۔ اسی خاطر تو اقبالؒ نے کہا کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں! ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!

اِسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا!کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں!

زیب نامہ

حصہ اول پڑھنے کے لئے:



://www.history.com › news 8 Little-Known Facts About the Moon Landing


https://web.facebook.com/story.php?story_fbid=158683302409173&id=100465084897662

اُردو زبان میں سائنسی ڈاکومنٹریز دیکھنے کے لیے وزٹ کیجیئے:

Youtube.com/Zaibnama 

#زیب_نامہ

#مون_لینڈنگ