#عجائباتِ_کائنات

۔ زمین کے درخت (Earth's trees)


۔ زمین کے درخت (Earth's trees)


یہاں اس زمین پر ہر قسم کی زندگی، دیگر زندگیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی اصول کے تحت درخت ہماری سانسوں کی چال کے مُحَرِّک ہیں کیوں کہ درخت ہماری اہم ترین ضرورت ہیں۔ ان سے ہمارا بہت پرانا اور گہرا رشتہ ہے۔ درخت زمین پر موجود ہیں تو ہم بھی موجود ہیں۔ (کیسے؟) درخت دن بھر کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن میں بدلتے رہتے ہیں (لیکن رات کے وقت یہ معاملہ الٹ ہوتا ہے) درختوں کا زمین پر آکسیجن مہیا کرنا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنا یہ ہمارے لیے بہت مفید ہے۔ درختوں سے پیدا ہوئی آکسیجن کی وجہ سے ہم سانس لے پاتے ہیں۔ کیمیائی عمل Photosynthesis کے ذریعے درخت سورج کی روشنی اور زمینی فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے اپنی خوارک یعنی گلوکوز تیار کرتے ہیں اور پھر اپنی اس خوراک کو اپنے جسم میں پھیلا دیتے ہیں۔


یہ آکسیجن ہماری فضاء میں شامل ہو کر ہماری سانس کے ساتھ ہمارے اندر جاتی ہے۔ آکسیجن ہمارے خُلیوں (cells) کی خوراک ہے۔ ہمارے خُلیے آکسیجن، نائٹروجن اور ہائیڈروجن کے ملاپ سے نئے خُلیوں کی تخلیق کرتے ہیں۔ آکسیجن صرف ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ زمین پر موجود تمام جانداروں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ زمین پر آکسیجن حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ درخت ہی ہیں۔


درخت خطرناک سیلاب اور آندھیوں سے ہونے والی تباہیوں میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتے ہیں، زمین کے قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں اور یہ انسانی صحت اور مزاج پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ زمین فقط ہمارا ہی گھر نہیں ہے بلکہ اس زمین پر دسیوں لاکھ قسم کی مخلوقات آباد ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر مخلوقات جنگلات میں رہتی ہیں اور جنگلات درختوں سے بنتے ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


درخت اور پودے بھی ہماری طرح جاندار ہیں۔ یہ باہم گفتگو بھی کرتے ہیں۔ یہ سمجھ بوجھ بھی رکھتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔ یہ اپنے آس پاس کے ماحول سے باخبر بھی رہتے ہیں۔


ایک دو نہیں بلکہ بہت زیادہ ایسے تجربات کیے جا چکے ہیں جن سے ہمیں درختوں کے آپس میں معلومات بانٹنے کے متعلق آگاہی ملی ہے۔ کسی درخت کے پاس خوراک کی کمی ہو تو اس کے پاس موجود دوسرے درخت اس درخت تک (جڑوں کے ذریعے) خوراک پہنچاتے ہیں۔ بعض حشرات الارض جو کہ درختوں کے لیے نقصاندہ ہوتے ہیں، ان کے آنے پر درخت جڑوں پر مبنی نیٹ ورک کے ذریعے ایک دوسرے کو پیغام پہنچا کر متبنہ کرتے ہیں۔


برگد کا درخت بہت زیادہ بڑا ہونے کے سبب اگر زمین کے اندر سے اپنی جڑوں کے ذریعے خوراک پوری نہ کر سکے تو یہ درخت اپنی شاخوں سے بھی جڑیں نکال لیتا ہے۔ شاخوں سے نکلی ہوئیں یہ جڑیں فضاء میں موجود نمی کو جذب کر کے اس دیو قامت درخت کی خوراک کو پورا کرتی ہیں۔ بعد میں یہ جڑیں ماس بڑھ جانے کی وجہ سے زمین کی کشش ثقل کے سبب زمین کی طرف جُھک کر زمین میں موجود پانی کو چوسنے لگ جاتی ہیں۔ برگد کے بوڑھے پیڑ صدیوں لمبی زندگی پا سکتے ہیں اور ان کا پھیلاؤ دو سے تین ایکڑ زمین کو ڈھانپ سکتا ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ان کا نام Chris Mooney ہے۔ یہ امریکہ کے شہر واشنٹگن ڈی سی میں رہتے ہیں اور The Washington post کے لیے لکھتے ہیں۔ انہوں نے زمین پر موجود درختوں کے متعلق بہت محنت سے معلومات اکٹھی کی ہیں۔ ان کی معلومات کے مطابق زمین پر تین ہزار ارب کے لگ بھگ درخت موجود ہیں۔


زمین پر موجود تمام درختوں کا بیس فیصد حصہ روس کے پاس ہے۔ روس میں چھ سو بیالیس 642 ارب درخت موجود ہیں۔ روس اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ دوسرے نمبر پر کینیڈا ہے، جو کہ تین سو اٹھارہ 318 ارب درخت رکھتا ہے۔ برازیل تین سو دو 302 ارب درختوں کے ساتھ تیسرے جبکہ امریکہ دو سو اٹھائیس 228 ارب درختوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ایک سو چالیس 140 ارب درخت رکھنے والا چین پانچویں اور ایک سو ایک 101 ارب درخت افریقہ کے ملک کانگو میں میں موجود ہیں، کانگو چھٹے نمبر پر ہے۔ انڈونیشا 81 ارب درختوں کے ساتھ ساتویں اور آسٹریلیا 77 ارب درخت رکھنے والا آٹھواں ملک ہے۔


صحرائی زمین کے حامل ممالک میں سب سے کم درخت پائے جاتے ہیں۔ مثلاً اگر سعودیہ اور قطر وغیرہ کے درختوں کو ان کے رقبے پر بانٹا جائے تو ایک مربع کلومیٹر میں صرف ایک درخت آتا ہے۔ فن لینڈ Finland میں موجود درخت فن لینڈ کے رقبے پر بانٹے جائیں تو فن لینڈ کے ایک مربع کلومیٹر پر 72644 درخت آتے ہیں۔ سویڈن Sweden کے جنگلات اگر اس کے رقبے پر تقسیم کیے جائیں تو سویڈن کے ایک مربع کلومیٹر پر 69161 درخت آئیں گے۔


ان تمام خِطوں میں درختوں کی تعداد میں بہت زیادہ فرق ہونے کے پیچھے بہت ساری وُجوہات ہیں۔ جیسا کہ آب و ہوا اور زمین کا مختلف ہونا۔ بارشوں کا کم یا زیادہ اور موسموں کی شدت کا الگ الگ ہونا۔ قدرتی وجوہات کے علاوہ بھی کئی ایک ہماری اپنی پیدا کردہ وجوہات ہیں۔ جیسا کہ ہر ملک کے باشندوں کی فطرت کا اس حوالے سے مختلف ہونا کہ تمام خطوں میں سے کچھ خطے اپنے قدرتی ماحول کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہیںاور بعض نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت غریب ممالک کے لوگ جنگلات کو کاٹ کر اس کی لکڑی پیشے کے طور پر زیادہ بیچتے ہیں۔ دولت کمانے کے لیے جنگلات کاٹ کر کھیتی باڑی شروع کر لی جاتی ہے۔ آبادی بڑھ جانے کی صورت میں جنگلات اور باغات کو ختم کر کے ان جنگلی علاقوں کو شہروں اور قصبوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ یہ سب ہی وُجوہات پوری زمین پر درختوں اور پودوں کے بڑھنے یا کم ہونے کی بنیاد ہیں۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زمین کے سب سے اونچے درخت امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں پائے جاتے ہیں۔ درختوں کی اس قسم کا نام Hayperion ہے۔ سرخ لکڑی کے حامل یہ درخت باآسانی تین سو فٹ اونچائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ 2006 میں زمین کا سب سے اونچا درخت یہیں سے دریافت ہوا تھا۔ اس درخت کی اونچائی تین سو اسی 380 فٹ ہے۔ مشرقی ایشیا میں سن 2016 میں 330 فٹ اونچا درخت دریافت ہوا تھا۔ جس کا وزن 81 ہزار کلوگرام سے بھی زیادہ بتایا گیا تھا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دنیا کا سب سے قیمتی درخت African Blackwood ہے۔ اس کی قیمت findanyanswer ویب سائٹ کے مطابق دس ہزار امریکی ڈالرز فی کلوگرام ہے۔ اس کے بعد Agar wood نامی درخت بھی نرخ کے لحاظ سے اتنا ہی قیمتی ہے۔ Sandalwood کے ایک درخت کی قیمت بیس ہزار امریکی ڈالرز ہے۔ افریقن بلیک وڈ African blackwood کی لکڑی لوہے کو زنگ لگنے سے بچائے رکھتی ہے۔ اس کی لکڑی موسیقی کے آلات وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے۔ گہرے جامنی رنگ میں یہ ایک خوبصورت لکڑی کا حامل درخت ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


زمین پر ساٹھ لاکھ 6000000 سے بھی زیادہ اقسام کے کم و بیش تین ہزار ارب درخت پائے جاتے ہیں۔ درخت ہماری زمین کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ ہمیں آکسیجن دیتے ہیں، یہ ہمیں سایہ مہیا کرتے ہیں۔ ان سے ہم پھول پھول اور سبزہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کی لکڑی ہماری ضروریاتِ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ مختلف قسم کے درخت مختلف بیماریوں کے لیے شفا بھی رکھتے ہیں، ان کی چھالیں ادویات میں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ فضاء میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن میں بدلتے ہیں۔ آکسیجن ہماری اوزون کی پرت کا اہم جُز ہے۔ درخت گرمی کو کم کر کے زمین کے قدرتی ماحول کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔


درخت ہم انسانوں کے علاوہ اس زمین پر موجود اربوں کھربوں جانداروں کی زندگی کا بھی ضروری سامان ہیں۔ انہیں کم ہونے سے بچانا بہت ضروری ہے۔ ان کی تعداد کو بڑھانا گویا ہر قسم کی اَرضی حیات کی حفاظت کرنا ہے۔


تحریر : محمد یاسر لاہوری 


https://www.facebook.com/groups/FalkiyatiDuniya/?ref=share